( داستانِ تلاش )
کتنی وسیع ہے دنیا دیکھو
اس کا یہ میل و مربع دیکھو
کتنے لوگوں کا بسیرا اس میں
میں تھا کرتا تلاشِ جاں اس میں
سنا تھا وہاں کلیوں کا راج ہے
بہار جاتا نہیں، گلیوں کا تاج ہے
اس کے بارے میں کہانی ہے سنانی تم کو
میرے لب پہ جو بات آئی بتانی تم کو
میں نے دیکھی تھی ایک بستی بشام کی
خوبصورت سی ایک کلی تھی شام کی
برسوں کی محنت کا ایک انعام ملا تھا
بےروزگار دل کو میرے کوئی کام ملا تھا
اگر تیرا جانا ہوا اس گاؤں بتانا مجھ کو
اس کا بدلا ہوا ہر نقش دیکھانا مجھ کو
میں تجھے راہ بتاتا ہوں تو جانا اس...