February 6, 2026
Human Brain and Cooking Hypothesis

ڈارونین تھیوری میں جب انسان کا موضوع آتا ہے تو دماغ کے ارتقاء کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ بہت ساری کہانیاں مشہور کی گئی ہیں کہ دماغ کا سائز بڑھ گیا تھا۔ نیورونز کی تعداد زیادہ ہوگئی تھی اور پیچیدہ نیٹورک کا ارتقاء ہوگیا۔ دماغ کا فلاں حصہ بڑھا ہوگیا اور پیچیدہ سوچ نے جنم لے لیا وغیرہ وغیرہ!

سادہ زہن کے ملحدین اور ڈارون پرستی کا شکار مسلمانوں کے لئے یہ کہانیاں بہت دلچسپ اور لگاؤ کا باعث ہوتیں ہیں لیکن اگر گہرائی میں تحقیقی مطالعہ کیا جائے تو ان کہانیوں کی حقیقت محظ مفروضوں اور قیاس آرائیوں سے زیادہ نہیں نکلتی جن کو منتخب شدہ ڈیٹا اور منتخب شدہ حقائق کی بنیاد پہ تیار کیا جاتا ہے اور پھر ڈارونین میڈیا ہر جگہ موجود ہے بس اشارہ کرنے کی دیر ہے اور سوشل میڈیا سے لے کر گوگل سرچز تک ہر جگہ ان ڈارونین کہانیوں کو وائرل کر دیا جاتا ہے۔ وہ عوام جو سائنس پرستی میں ڈوبی ہوئی ہے جب ہر جگہ ان ڈارونین کہانیوں کو دیکھتی ہے تو ان کا ردِ عمل یہ ہوتا ہے۔

"سارے کہ رہے ہیں تو ٹھیک ہی ہوگا" 

اور اس طرح ڈارونین سائنس سچائی کا سفر طے کر جاتی ہے یا یہ کہ لیں کہ کثرت کے ساتھ موجود ڈارونین پروپیگنڈا سچائی لگنے لگتا ہے۔

"آگ پر کھانا پکانے سے دماغ بڑا ہوگیا اور انسان ذہانت کی بلندی پر پہنچ گیا" اس پہ ایک مشہور مفروضہ انسانی ارتقاء کے شروعاتی دور میں حیوانی انسانوں کا کسی طرح آگ پہ قابو پالینے کا ہے جسے Cooking Hypothesis کہتے ہیں۔ جی بلکل! یہ ایک مفروضہ ہی ہے اور انسانی دماغ کے ارتقاء پہ بہت سارے مفروضہ جات میں سے ایک ہے۔ اس کے مطابق حیوانی انسان ماضی میں یہ سیکھ گئے تھے کہ آگ کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آگ پہ گوشت، جنگل کے پھل اور بیج وغیرہ کو پکا کر کھانے سے ان کو زیادہ غذائیت، زیادہ کیلوریز، آسانی سے چبائی جانے والی غذا اور آسانی سے ہضم ہونے والی خوراک مہیا ہوئی لہذا دماغ کے ارتقاء کے لئے زیادہ انرجی ملنا شروع ہوئی جس سے دماغ کا سائز بڑھنے میں مدد ملی۔

سننے میں یہ واقعی بہت عمدہ مفروضہ لگتا ہے لیکن عمدہ تو اچھے سے لکھی گئی افسانوی کہانی بھی لگتی ہے! سوال یہ ہے کیا یہ مفروضہ واقعی ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا ہے جیسے کہ اس کو پیش کیا جاتا ہے؟ اس کا مختصر تنقیدی جائزہ لیا جائے گا اور سائنسی نکتہ نظر پیش کیا جائے گا۔

پیراگراف 1:

میں 2016 میں پبلش ہوا ایک سائنسی پیپر پیش کروں گا جو NCBI پہ بھی موجود ہے۔ 

https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4842772/#!po=0.357143

اور Frontiers پہ بھی موجود ہے۔ معلومات کے لئے بتا دوں فرنٹیئرز دنیا کے پہلے پانچ Most Cited جرنل پبلشرز میں سے ایک ہے۔

یہاں میں ایک اہم نکتہ کا زکر ضرور کرنا چاہوں گا کیونکہ مجموعی طور پہ ڈارونین تھیوری کے تمام دعوی جات اسی طرزِ فکر پہ مبنی ہوتے ہیں۔ اگر آپ گہرائی میں تحقیقی مطالعہ کریں تو کوئی ٹھوس اور سنجیدہ ثبوت موجود نہیں ہوتا جو سائنسی پڑتال پہ پورا اتر سکے۔ صرف کمتر درجے کے مفروضوں کی کثرت ہوتی ہے۔ دیے گئے سائنسی پیپر کے شروعات میں واضح طور پہ کہا جا رہا ہے کہ انسانی دماغ ارتقاء کر کے بڑا ہوا اور انسانی ذہانت وجود میں آئی یہ عام طور پہ مانا جاتا ہے لیکن یہ کس طرح ہوا؟ کن وجوہات سے ہوا؟ یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا۔ یعنی ارتقاء ثابت ہوچکا ہے بس ثبوت ڈھونڈنے باقی ہیں!

"Nowadays, human brain expansion during evolution has been acknowledged to explain our empowered cognitive capabilities. The drivers for such accelerated expansion remain, however, largely unknown."

https://www.frontiersin.org/articles/10.3389/fnins.2016.00167/full

پیراگراف 2:

مشہور مفروضہ Cooking Hypothesis یعنی حیوانی انسانوں کے آگ پہ خوراک پکا کر کھانے سے انسانی دماغ ارتقاء کر گیا۔ یہ سوشل میڈیا، ملحدانہ سائنس گروپس اور احساسِ کمتری کا شکار مسلمانوں میں بہت مقبول ہے۔ اس کو ایسے بیان کیا جاتا ہے جیسے یہ آنکھوں دیکھی حقیقت ہے جبکہ یہ صرف ایک حسابی مساوات سے اخذ کیا گیا ہے اور یہ مساوات primates پہ اپلائی کی جاتی ہے اور وہاں سے انڈائیریکٹلی اٹھا کر انسانی پہ لاگو کر دی جاتی ہے کہ ایسے ہوا ہوگا۔ اس کا کوئی بھی مشاہداتی، تجرباتی یا معقولیت پہ مبنی سنجیدہ ثبوت موجود نہیں۔

اس تحقیق میں وہی حسابی مساوات استعمال کی گئی اور ثابت کیا گیا کہ خوراک ڈھونڈنے کے عمل (Foraging) سے دماغی نیورانز میں اضافے کے زیادہ امکانات ہیں بنسبت آگ کو قابو کر کے اس پہ خوراک پکا کر کھانے سے۔ (اس سوچ کو ایک نئے مفروضے کے طور پر بھی پیش کیا گیا اور اس طرح ڈارونیں مفروضوں کی تعداد مزید بڑھ گئی۔) چوہوں پر تجربات سے ثابت کیا گیا کہ پکا ہوا گوشت کھلانے سے چوہوں کو کوئی بھی اضافی کیلوریز یا غذائیت ملنے کے ثبوت موجود نہیں ہیں۔ آخر کار بڑے دوٹوک انداز میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ آگ پہ کھانا پکا کر کھانا انسانی دماغ کے ارتقاء کے لئے نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کافی ہے۔

"Finally, we report experiments in mice showing that thermal processing of meat does not increase its caloric availability in mice. Altogether, our data indicate that cooking is neither sufficient nor necessary to explain hominin brain expansion."

https://www.frontiersin.org/articles/10.3389/fnins.2016.00167/full

پیراگراف 3:

سائنسی پیپر میں ایک جگہ ارتقائی سائنسدان خود اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ آگ کو قابو کر کے اس کو پکانے کے لئے استعمال کرنے والا مفروضہ انتہائی متنازع ہے۔ اس کو Highly Controversial کہا جا رہا ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ جن آرکیالوجیکل جگہوں پہ آگ جلنے کے شواہد موجود ہیں ان کے قدرتی ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں مثال کے طور پہ زیادہ گرمی سے خشک جھاڑیوں اور جنگلوں میں آگ لگنا (Bush Fire) ایک عمومی عمل ہے۔ اگر اس آگ کے باقیات فاسل ریکارڈ میں محفوظ ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ لازمی طور پہ یہ حیوانی انسانوں نے کھانا پکانے کے لئے خود جلائی تھی۔ پھر جلی ہوئی لکڑیوں کا بارش اور سیلاب میں بہ کر غاروں میں اکھٹا ہو جانا اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتا کہ یہ لکڑیاں حیوانی انسانوں نے جلائی تھیں۔ 

یہاں دو چیزوں میں فرق کرنا ضروری ہے ایک یہ ڈارونین مفروضہ ہے کہ آگ پہ کھانا پکانے سے بندر نما انسانوں کا دماغ ارتقاء کر کے بڑا ہوگیا اور انسانی ذہانت وجود میں آئی۔ اس کا کوئی بھی سنجیدہ سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔

دوسرا یہ کہ ماضی کے انسان جو انسان تھے! وہ آگ کا استعمال کر سکتے تھے۔ جیسے کہ نیڈرتھل (Neanderthal) آگ کا استعمال بہت سے کاموں کے لئے کرتے تھے اور ہومو سیپئن (Sapiens) آگ کا استعمال کثرت سے مختلف کاموں کے لئے کرتے تھے۔ 

"Obviously, thermal processing of food required the control of fire by early hominins. However, human control of fire and its association with cooking at the onset of human brain expansion is highly controversial."

https://www.frontiersin.org/articles/10.3389/fnins.2016.00167/full

پیرگراف 4:

ایک دفعہ پھر سائنسی پیپر کے آخر میں سیدھے اور دو ٹوک انداز میں تجرباتی اور دیگر حقائق کو مد نظر رکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ آگ کو قابو کر کے اس پہ کھانا پکانے سے انسانی دماغ کے ارتقاء کا کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ہے۔ نہ اس کا فاسل ریکارڈ میں کوئی واضح ثبوت موجود ہے۔ نہ غذائیت کے پہلو سے کوئی ثبوت موجود ہے اور نہ جسمانی پہلو سے کوئی ثبوت موجود ہے یعنی جسمانی سائز کم ہونا اور دماغ کا بڑا ہونا۔

"In conclusion, the appealing hypothesis of thermal processing of food as a pre-requisite to brain expansion during evolution is not supported by archeological, physiological, and metabolic evidence."