انسانی فطرت کا ایک بہت دلچسپ فلسفہ ہے اگر وہ سمجھنے کی کوشش کریں تو کوئی چیز تکلیف نہیں دے گی اور اس فلسفے کو سمجھنے کی خاطر آپ انسانی فطرت کو ایک چھوٹا بچہ تصور کرلیں۔ چھوٹے بچے ہر گھر میں ہوتے ہیں اور ہر انسان نے ایک بچے کو پیدائش سے لے کر جوان ہونے تک کا سفر طے کرتے دیکھا ہے اگر ہم اس بچے کی بچپن میں اس کو دیکھیں تو وہ ضد اس چیز کے لئے نہیں کرتا جو اس کو چاہیے بلکہ وہ ضد ہر اس چیز کے لئے کرتا ہے جو آپ اس کو دینے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ انکار ہی ہے جو انسانی فطرت کا بہت بڑا اور دلچسپ فلسفہ ہے اگر آپ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت آدم اور حوّا کو بھی جنت کے پھلوں میں سے ایک مخصوص پھل کھانے سے منع کیا گیا تھا اور ان کو جنت سے بےدخل بھی اسی پھل کی وجہ سے ہونا پڑا کیونکہ اس میں انکار آگیا تھا۔ انسان چاہے جتنا بھی پر سکون کیوں نا ہو لیکن اگر کسی چیز کے لئے اسے انکار کیا جائے تو درمیان میں اس کی آنا آجاتی ہے جو تا آسماں بلند ہوتی ہے اور یہ ہی آنا انسان کو اندر سے بے چین کر دیتی ہے ( اگر معاملہ محبت کا ہو) تو یہاں آپ کو بے چین آپ کی محبت نہیں کرتی بلکہ انا کرتی ہے کیونکہ کہ محبت میں محبوب کی یادوں کی بہاریں آپ کو کبھی بے چین کر ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ محبت کے قرینوں میں سے ایک بہت ہی انوکھا انداز ہے کہ جہاں آپ کا محبوب آپ کی نظروں سے اوجھل ہو ، اور محبوب کی بے وفائی دیکھ کر بھی آپ اس کی یادوں میں پر سکون ہوتے ہیں لیکن آپ کی آنا درمیان میں آپ کو بیچیں کرتی رہتی ہے اگر آنا نا ہوتی تو محبت میں دھوکا یا بے وفائی دیکھ کر ہم یہ نا سوچتے
"مجھ میں کیا کمی تھی؟"
"میری محبت اس کو بدلنے میں کیوں ناکام رہی؟"
"میں نے تو اپنی ساری چاہتیں اس پر وار دی تھیں" وغیرہ
یہ الفاظ اور یہ جملے واضح طور پر آپ کی آنا کو ثابت کرتے ہیں۔ آگر آپ بے چین نہیں رہنا چاہتے تو آپ کو اپنے اندر سے وہ آنا نکالنی ہوگی اور وہ نکالنے کے لئے آپ کو اپنی آنا میں اِضافہ کرنا پڑے گا لیکن طرزِ تعمیر بدل کر اور وہ ایسے کہ آپ کو اپنے دل و دماغ کو یہ بات سمجھانی ہوگی کے وہ چیز یا وہ انسان آپ کے قابل ہی نہیں تھا آپ کی زندگی سے ایک اسی چیز یا ایک ایسا انسان نکل کر خود چلا گیا جو آپ کی قیمت گھٹا رہا تھا وہ کبھی آپ کا تھا ہی نہیں کیونکہ وہ آپ کی قدر و قیمت کے برابر نہیں تھا انمول شے کو خریدنے سے دو لوگ ہی انکار کر سکتے ہیں ایک وہ جس کو اس چیز کی سمجھ نا ہو کہ یہ ہے کیا اور دوسرا وہ جس کا جیب خالی ہو، وہ بندہ کبھی انکار نہیں کریگا جس کا جیب بھی بھرا ہوا ہو اور اس کو اس شے کی سمجھ بھی ہو۔ کوئی آپ کو آپ کی محبتوں کا پھل بے وفائی کر کے دیں تو سمجھ جائیں کہ یا تو اس کو محبت کی سمجھ نہیں اور یا اس کی اوقات نہیں۔
~ محمد یسین