کتنی وسیع ہے دنیا

کتنی وسیع ہے دنیا دیکھو 

اس کا یہ میل و مربع دیکھو 

کتنے لوگوں کا بسیرا اس میں

میں تھا کرتا تلاشِ جاں اس میں

سنا تھا وہاں کلیوں کا راج ہے 

بہار جاتا نہیں، گلیوں کا تاج ہے 

اس کے بارے میں کہانی ہے سنانی تم کو 

میرے لب پہ جو بات آئی بتانی تم کو 

میں نے دیکھی تھی ایک بستی بشام کی 

خوبصورت سی ایک کلی تھی شام کی 

برسوں کی محنت کا ایک انعام ملا تھا 

بےروزگار دل کو میرے کوئی کام ملا تھا 

اگر تیرا جانا ہوا اس گاؤں بتانا مجھ کو 

اس کا بدلا ہوا ہر نقش دیکھانا مجھ کو 

میں تجھے راہ بتاتا ہوں تو جانا اس پر 

میرا ساتھ یہ نغمہ بھی تو گانا اس پر 

پہنچ کر تجھے دکھ جائے گی ہزار گلیاں اس میں

جانا ہے اس گلی جھومتیں ہو تتلیاں جس میں

اس گلی سے گزر کر تو دیکھنا اِدھر اُدھر

 ہیں وہاں شاخیں جو بکھرتیں اِدھر اُدھر

انہیں پہ نظر رکھ کر ، جانا تو سامنے 

رکنا نہیں گر تھک گئے ، جانا تو سامنے

پہنچ گئے بس دیکھو وہاں سامنے اک ندی 

ندی کے پار جا کے وہ پہلی ایک گلی 

اس گلی کے باب پر لکھا ہے خوش آمدید

یہ میرے واسطے لکھا تھا، تھی جو پہلی دید 

گلی سے گزرتے ہوئے ہوشیار رہو تم 

یارِ من کی گلی ہے ذرا بیدار رہو تم 

تم وہ دیکھو وہاں کھونے میں درخت ہے 

یہ میری یادوں کا آشیانہ فقط ہے 

جو نام درخت پہ نصب ہے اسے بیتاب ہوں میں

دوشیزہ خود کو کہتی ہے ماہتاب ہوں میں

درخت والے گھر میں چاندنی ہے ایک 

میرے احساس کی اب تک کی بندگی ہے ایک 

میرے رازِ زندگی کی آرزو ہے وہ 

میں گر سانس بھی لے لوں چارسُو ہے وہ 

گھر کے آنگن میں بیٹھی ہوئی لڑکی 

کہنے کو آرزو یا بگڑی ہوئی لڑکی 

اسے کہنا کہ ترے اب بھی انتظار میں ہے 

اب بھی وہ ہوائیں،  آہ و پکار میں ہے 

وہ تجھ سے پوچھیں کہ میرا حال کیا ہے 

تو ادب سے کہنا، مردوں سے یہ سوال کیا ہے

کتنی وسیع ہے دنیا کہ مجھے یار ملا تھا 

چاہا نہ تھا پھر بھی گلے کا ہار ملا تھا